مولانا کلب جواد گرفتار؛ ۸۰سے زائد بسوں میں حکومت نے کلب جواد کے حامیوں کو گرفتارکر مختلف جیلوں میں بھیجا

آر.این.آئی.، لکھنؤ:

Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad
Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad

ہندوستان میں شیعوں کے قائد سمجھے جانے والے مولانا کلب جواد کو آج لکھنؤ میں حکومت نے ان کے ہزاروں حامیوں کے ساتھ گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔مولانا کلب جواد کی آواز پر روز گذشتہ کی مانند آج بھی لکھنؤ کے چھوٹے امام باڑے میں ایک عوام کا ایک سیلاب نکل پڑا۔ تمام لوگ گرفتاری دینے کے لئے ایک سے دوسرے پر سبقت کرتے نظر آئے لیکن ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرنے کے باوجود کئی گنا ایسے باقی رہ گئے جو گرفتاری دینے کے خواہشمند تھے لیکن بسوں کی کمی پڑ جانے کے سبب پولس نے ان کو گرفتار نہیں کیا۔

Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad
Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad

ایک اطلاع کے مطابق آج پرشاسن نے ۸۰بسوں کا انتظام کیا تھا تاکہ کلب جواد کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جا سکے۔ لیکن روز گذشتہ کی مانند آج بھی لکھنؤ کی گلی کوچوں سے مرد و عورت سڑکوں پر اتر آئے اور ایک بڑی تعداد میں چھوٹے امام باڑے پہنچے تاکہ کلب جواد کی حمایت میں گرفتاری دے سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج تقریباً ۸۰۰۰۰ لوگ چھوٹے امام باڑے میں جمع تھے جو روز گذشتہ جمع ہوئے افراد سے تعداد میں کافی کم ہونے کے باوجود اتنا زیادہ تھے کہ پرشاسن کو ان کو گرفتار کرنے میں پسینے چھوٹ گئے اور صرف دس فی صد کے قریب افراد کو ہی گرفتار کیا جا سکا۔

Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad
Supporters came out in large numbers on Monday as part of Jail Bharo call by Kalbe Jawwad

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ کل۸۰کے قریب بسیں ہی آئی ہیں ان کو گرفتار کرنے کے لئے تووہ گرفتاری دینے کے لئے ایک سے دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔آر.این.آئی. نامہ نگار نے بتایا کہ عام طور پر لوگ گرفتاری کا نام سن کر بھاگنے لگتے ہیں لیکن کلب جواد کا جادو ایسا سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ وہ بسوں میں بیٹھنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب بس کے اندر جگہ نہیں بچی تو کئی افراد بس کی چھتوں پر بیٹھ گئے لیکن اس کے باوجود ہزاروں لوگ گرفتاری دینے سے رہ گئے۔

موصول اطلاعات کے مطابق مولانا کلب جواد کو للت پور کی جیل بھیجا گیا ہے لیکن ان کے ساتھیوں کو اناؤ اور دیگر دوسری جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔

آر.این.آئی. سے بات چیت میں ایک ضعیف شخص نے جو گرفتاری دینے کا خواہشمند تھا لیکن پولس نے اس کو بسوں میں نہیں بیٹھنے دیا بتایا: ’’صرف کلب جواد کے ساتھی ہی ایسے ہیں کہ پولس گھر بھیجتی رہی اور وہ گرفتاری دینے کے لئے ایک دوسرے کو پیچھے ڈھکیل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر کار ۸۰ بسوں میں اور ان کی چھتوں پر جتنا سما پائے اتنا آئے اور ہزاروں لوگ مایوس واپس ہوئے کہ اپنے قائد کے ساتھ گرفتاری نہیں دے سکے۔‘‘

غور طلب ہے کہ گذشتہ روز مولانا کلب جواد نے اپنے ساتھیوں کو جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کے لئے بلایا تھا۔ دہلی اور اتر پردیش کے کئی اضلاع میں کل بھی بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ لیکن لکھنؤ میں ایک جم غفیر سڑکوں پر نکل آیا تھا جو ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان افراد پر مشتمل تھا۔ پرشاسن صرف ۱۸ بسوں کا ہی انتظام کئے تھا۔ اس پر مولانا کلب جواد پرشاسن کا مزاق اڑاتے ہوئے اپنے تقریر میں کہا تھا کہ محض ۱۸ بسوں کا انتظام کرکے پرشاسن ہمارا مزاق اڑانا چاہتا ہے اور ہم کل پھر جمع ہوں گے، پرشاسن ۱۰۰۰ بسوں کا انتظام کرکے آئے اور ہمیں گرفتار کرے۔ آج اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود پرشاسن صرف ۸۰ بسوں کا ہی انتظام کر پایا جس میں لوگوں کو بھر کر مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا۔

معلوم ہو کہ گذشتہ کئی روز سے مولانا کلب جواد لکھنؤ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو ہٹانے اور ان کی حمایت کرنے والے اتر پردیش کی حکومت کے وزیر اعظم خان کے خلاف مہم چلائے رہے ہیں اور اسی سلسلے میں اتوار کو لکھنؤ اور دیگر شہروں میں گرفتاری دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اتوار کو مولانا کلب جواد نے کہا تھا کہ سماجوادی حکومت دیکھ لے کہ وقف بورڈ کے چیئرمین کے ساتھ کتنے لوگ ہیں اور اسکی بے ایمانی کے خلاف کتنے لوگ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ وقف جائدادوں کو برباد نہیں ہونے دیا جائیگا اور وقف خوروں کی سرکار حمایت کرے گی تو اس کو خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔

Nearly 2 lakh supporters of Maulana Kalbe Jawwad were out on the streets on Sunday
Nearly 2 lakh supporters of Maulana Kalbe Jawwad were out on the streets on Sunday

اتوار کو بھی پرشاسن نے مولانا کلب جواد کے گرفتاری کے پروگرام کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ پہلے مولانا کلب جواد نے ناظم صاحب کے امام باڑے سے گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا لیکن پرشاسن نے عین وقت پر ناظم صاحب کے امام باڑے کو بند کر دیا جس کے بعد بڑے امام باڑے سے گرفتاری دینے کا پروگرام بنانا پڑا۔

غور طلب ہے کہ مولانا کلب جواد کی حمایت میں شیعہ ، سنی ، ہندو، سکھ اور عیسائی بھی کندھے سے کندھے ملا کر بڑے امام باڑے پر ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

اس تمام معاملے کو اتر پردیش میں سپا سرکار کی ایک اور بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پردیش کے بگڑتے حالات کے تحت گذشتہ کچھ دنوں میں صحافیوں پر بھی کئی حملوں کی واردات دیکھ چکی ہے جس میں ایک صحافی کو زندہ جلا کر مار ڈالنے کی واردات بھی شامل ہے۔

آر.این.آئی. نیوز بیورو

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.