اتر پردیش کے لیبر وزیر نے وزیر اعظم کی لیبر پالیسی پر کیا شدید حملہ

Shahid Manzoorدہلی میں منعقد لیبر کانفرنس میں جہاں ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی لیبر اصلاحات اور متروک قوانین کو ختم کرنے کی بات کر رہے تھے کانفرنس میں حصہ لینے آئے اتر پردیش کے لیبر وزیر شاہد منظور نے کانفرنس نے نکلتے ہوئے وزیر اعظم کی لیبر پالیسی پر تیکھا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لیبر اصلاحات کی بات نریندر مودی کر رہے ہیں وہ اتر پردیش کی حکومت گذشتہ دو سالوں میں لاگو کر چکی ہے۔

اتر پردیش کے لیبر وزیر نے بتایا کہ ۴۶ وی بھارتی لیبر کانفرنس کے آغاز میں ارون جیٹلی کہ بغیر پیسے کے کوئی صنعت لگنا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کے چودہ مہینے کے دور حکومت میں ہمیں یہ تو پتہ ہے کہ وزیر اعظم کتنا روپیا دوسرے ممالک کو تقسیم کر آئے لیکن کسی کو نہیں معلوم کے بیرون ملک سے کتنا روپیا بھارت آیا۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مینی فیسٹو میں بی جے پی نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیّہ کرانے کی بات کی تھی لیکن چودہ ماہ کے دور اقتدار میں انھوں نے کتنے نوجوانوں کو روزگار دیا؟ ’’مودی جی ہر دوسرے دن کسی کانفرنس میں شریک ہو کر پبلسٹی بٹور رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کیا نتائج نکلے۔اتنے وقفے میں کتنے صنعت لگائے جا پائے۔ کیا اڈانی اور امبانی ملک کے کروڑوں بے روزگاروں کو روزگار مہیّہ کرا سکتے ہیں؟‘‘

شاہد منظور نے بتایا کہ کانفرنس کی شروعات میں مہاتما گاندھی کی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اگر مہاتما گاندھی کی پالیسیوں پر یہ ملک چلا ہوتا تو آج ہم غیر ملکی کمپنیوں کو بلانے کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ مہاتما گاندھی گرام سوراج کی بات کرتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ گاؤں میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں تاکہ شہروں تک لوگوں کی آمد روکی جا سکے۔ آج شہروں پر جو بوجھ بڑھتا جا رہا ہے وہ ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

شاہد منظور نے کہا کہ گاندھی اور سردار پٹیل سے بھاجپائیوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آج مودی جی ہر ملک میں مہاتما گاندھی کی مورتی پر پھول چڑھا کر آتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ گاندھی اور پٹیل ملک کو ایک ساتھ لے کر چلتے تھے جبکہ یہ طبقہ خاص کو لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے پٹیل نے آرایس ایس پر پابندی عائد کی لیکن آج یہ ان کا نام لینے سے نہیں تھکتے۔ گاندھی اور پٹیل کو یہ اس لئے لے کر چلتے ہیں کیوں کہ وہ دونوں گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔

اتر پردیش لیبر وزیر شاہد منظور کا خیال ہے کہ نئے زمانے کے صنعت روزگار کے مواقع کو کم کر رہے ہیں۔ روزگار کے مواقع میں کمی نئے زمانے کی صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سبب ہوئی ہے۔ جو کام کئی لوگ کرتے تھے وہ کام صرف ایک کمپیوٹر کرتا ہے۔ گاؤں میں ایک لوڈر نے انگنت لوگوں کی روزی چھیں لی۔ پالیسی تو ایسی ہونی چاہئے کہ بھکمری نہ ہو۔ اگر پالیسی سے لوگوں کے روزگار چھن رہے ہیں تو پہلے ان کے روزگار کا انتظام کرنا ضروری ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ ۱۴ ماہ کی مودی دور حکومت میں وہ اس حکومت کو دس میں کتنے نمبر دیں گے، شاہد منظور نے تنز کرتے ہوئے کہا کہ ۱۴ ماہ میں مودی جتنے دن ہندوستان میں رہے ہیں وہ اتنے نمبر لے لیں۔ ابھی تو وہ دنیا کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ جو کام واسکو ڈی گاما نے کیا وہ کام مودی جی کر رہے ہیں۔ جب سے وزیر اعظم بنے ہیں انھوں نے ۳۵ سے ۴۰ ممالک کا پہناوا، تہذیب، کھانا پینااور ثقافت کی تلاش کی ہے۔ ابھی دنیا کے قریب ۱۰۰ ملک اور رہ گئے ہیں گھومنے پھرنے کے لئے۔ جب یہ تمام ممالک کی معلومات حاصل کر لیں گے تب ہندوستان میں اس کا اطلاق کریں گے۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کہتی ہے کہ اس کا ایجنڈا ۲۰۲۱ میں مکمل ہو پائے گا، انھوں نے کہا۔

شاہد منظور نے شدید تنز کرتے ہوئے آر.این.آئی. کو بتایا کہ نریندر مودی کو یقینی طور پر ہندوستان کی غریبی کی فکر ہے۔ اس لئے وہ ایسے کام کرتے ہیں کہ غربت دکھائی نہ دے۔ وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو صرف برانڈیڈ کپڑے پہنتے ہیں۔ اس سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم غریب ملک نہیں ہیں۔ ان کا دس لاکھ کا ایک سوٹ کروڑوں میں بکتا ہے جبکہ ملک کے کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب دکھا رہا ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے اور وزیر اعظم کی کیا منشا ہے۔

شاہد منظور کہتے ہیں کہ نریندر مودی کے ترقی کی منصوبے منفرد ہیں اور وہ روزانہ نئے نئے راستے نکالتے ہیں۔ پہلے ۳۴۰ روپئے کا گیس سلینڈر ملتا تھا، اب ۶۴۰ کا ملتا ہے۔ آٹھ سے دس روپئے کاٹ کر باقی روپئے اکاؤنٹ میں آ جاتے ہیں۔ یعنی ہر سلنڈر کی فروخت پر حکومت ۸ سے ۱۰ روپئے کماتی ہے۔ اسی طرح جب تیل کے ریٹ بڑھتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ غیر ملکی بازار میں تیل کی قیمت کی مناسبت سے ہندوستانی عوام کو قیمت دینی ہوگی۔ بیرون ملک تیل کے ریٹ گھٹے تو حکومت نے ٹیکس بڑھا کر اس میں بھی فی لیٹر ۸ سے ۱۰ روپئے مزید کمانے کا راستہ نکال لیا۔ اب گیس سبسڈی چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ بی جے پی حکومتی صوبوں میں کتنے لوگ سبسڈی چھوڑتے ہیں۔

محترم وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس سے آگے کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ ’’پارلیمنٹ کی کینٹین میں سبسڈی کے نام جو لوٹ مچا رکھی ہے پہلے اس کو چھوڑ کر مثال پیش کی جائے۔ پچھلے دس سے بارہ سال کا آڈٹ ہو تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان میں ممبر پارلیمنٹ پر کتنا روپیا خرچ ہو رہا ہے۔ اگر مودی صاحب سبسڈی کی بات کر رہے ہیں تو پہلے وہیں سے آغاز ہونا چاہئے۔ کون ایم.پی. ایسا ہے جو مارکٹ کے ریٹ پر کھانا نہیں کھا سکتا۔ کیوں یہ رول ماڈل نہیں بنتے؟‘‘

شاہد منظور نے کہا کہ سودیشی کی بات کرنے والی پارٹی پہلے وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر جو لمبا چوڑا کھرچا ہو رہا ہے اس کو چھوڑے۔ جتنی سبسڈی گیس پر ایک ماہ میں نہیں دی جاتی اس سے زیادہ خرچہ تو وزیر اعظم کے ایک دن کے غیر ملکی سفر پر ہو جاتا ہے۔ کوئی اس کا حساب دینے والا نہیں ہے

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.