دین و دستور: واقعی خطرے میں یا محض ایک سیاسی نارہ

MuslimPersonalLawBoard

مہاراشٹر میں زور و شور سے چل رہی تحریک اب شمالی ہندوستان میں دستک دینے کو ہے۔ دین و دستور کو اگر خطرہ ہے تو سب سے زیادہ شمالی ہندوستان میں ہے جہاں کچھ لوگ دین و دستور کو سیاست کے اکھاڑے میں کمزور کرنے کے لئے کوشاں ہیں وہیں ان کی کارکردگی کے سبب ایک بڑی اقلیت کو اپنے مذہبی اور دینی افکار اور مراسم خطرے میں نظر آنے لگے ہیں اور نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو بڑے عرصہ بعد پھر سے ایک تحریک شروع کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔

نریندر مودی سرکار کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے پیش آ رہے واقعات اورتیزی سے بدلتے حالات کی روشنی میں ۱۰ دسمبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امروہہ میں دین و دستور پر منڈلا رہے خطرے کے خلاف ایک بڑی تحریک کی ابتداع کرنے جا رہی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان کے تمام بڑے علماء، اکابر دانشمند حضرات تشریف لا رہے ہیں ۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسری اقلیتیں جو خطرہ محسوس کر رہی ہیں ان کی بھی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

لیکن کیا واقعی دین و دستور کو خطرہ لاحق ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا ہماری مذہبی قیادت اتنے عاقلانہ فیصلے لینے کے قابل ہو گئی ہے کہ اس تحریک کو یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھائے۔ کیا ملک کے مسلمان اور خاص کران کے دینی اور مذہبی قائدمختلف سیاسی دہلیز پر متفرقہ طور پر قدم بوسی کرنے کی جگہ ایک پلیٹ فارم پر آ کر متحدہ طور پر آواز بلند کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ سیاسی گلیاروں کے تمام بام و در لرزاں ہو جائیں اور مسلمانوں کی متحدہ آواز کی گونج کا کوئی مثبت اثر دکھائی دے۔

یہ تو ظاہر ہے کہ امروہہ میں سیدھے سادھے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہونے جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عیدگاہ میدان میں قریب دو لاکھ افراد کا حجوم جمع ہوگا جو سب کے سب اس آس میں اپنا پورا دن اس تحریک کی نظر کریں گے کہ ان کے قائد ان کو درپیش مسائل سے نجات دلائیں گے اور دین و دستور پر منڈلا رہا خطرہ ، جو اب تمام مسلمانوں کو دکھائی دے رہا ہے، اس سے نجات کی کوئی تدبیر کریں گے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہندوستانی مسلمان اور خاص کر ان کی قیادت واقعی دین و دستور کو درپیش خطرات کو لے کر سنجیدہ ہے؟ آر.این.آئی. کی اس بارے میں کی گئی کاوش پیشِ خدمت ہے۔

ظاہر ہے مسلم پرسنل لا بورڈ کا پروگرام ہے تو مَدَنی خانوادے کے کسی بڑے رہنما کی شرکت بعید الفکر محسوس ہوتی ہے۔ اس خانوادے کے چند افراد کا شمار ہندوستانی مسلمانوں کے بڑے رہنماؤں میں کیا جاتا ہے لیکن چند دن قبل وہ خود سڑکوں پر اور میڈیا چینلز کے ذریعہ ایک تحریک چلا چکے ہیں اس لئے امروہہ میں ہونے جا رہے دین و دستور بچاؤ جلسہ میں ان کے آنے کی امید کسی کو نہیں اور شائد اس ہی لئے ان کا نام پوسٹروں پر بھی موجود نہیں ہے۔

بخاری خانوادے کا بھی حال میں راہ عمل یہی رہا ہے کہ اگرکوئی ایک فرد شمال کا رخ کرتا ہے تو خانوادے کا دوسرا فرد مجبوراٌ جنوب کی جانب منہ کرتا ہے۔ دین و دستور بحمداﷲ جامع مسجد کے ارد گرد ابھی سلامت ہے اس لئے اس کو درپیش خطرے کی آوازیں غالباٌ ابھی اس جانب نہیں پہنچی ہے۔ ایسا نہیں لگتا کہ اس خانوادے کا کوئی فرد امروہہ میں دین و دستور کی حفاظتی تدابیر پر اپنی رائے پیش کرتا نظر آئے۔

آر.این.آئی. نے بات کی ان رہنماؤں سے جن کا نام امروہہ میں ہونے والی دین و دستور بچاؤ جلسہ کے پوسٹروں میں بڑے فونٹ میں تحریر ہے اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان کا کیا ردِّ عمل ہے۔یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ جلسہ جناب مولانا رابع حسن ندوی صاحب کی سرپرستی میں منعقد ہوگا۔ ان کو فون کیا تو یہ افسوسناک خبر معلوم ہوئی کہ وہ علیل ہیں ۔ بتایا گیا کہ اگرطبیعت ٹھیک رہی تو ہی وہ اس جلسہ میں شرکت پر پائیں گے۔ دین و دستور کو کیا اور کتنا خطرہ لاحق ہے، یہ پوچھے جانے پر بتایا گیا کہ ابھی اپنا نظریہ پیش کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

مولانا سجّاد نومانی جو دین و دستور بچاؤ جلسہ کہ جوائنٹ کنوینر ہیں انھوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ملک کے حالات جس جانب جا رہے ہی اس کو دیکھتے ہوئے یہ ضرورت پیدا ہوئی کہ اس تحریک کو بڑے پیمانے پر شمالی ہندوستان میں بھی چلایا جائے۔انھوں نے کہا کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اور مذہبی اقلیتیں اور سماجی اکائیاں مل جل کر اس تحریک کو آگے بڑھانے جا رہی ہیں۔ مہاراشٹر کے مختلف ضلوں میں اس تحریک کو لے کر کئی بڑے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور امروہہ کے جلسہ کے ذریعہ اس تحریک کو شمالی ہندوستان میں شروع کیاجا رہا ہے۔ جب پوچھا گیا کہ سیاسی اقتدار میں بیٹھے افراد کہتے ہیں کہ ہمارے دورِ حکومت میں اتنے فسادات نہیں ہوئے جتنے پہلے کی سرکاروں کے دور حکومت میں ہوئے، انھوں نے کہا کہ فسادات ہوئے یا نہیں صرف یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی مذہبی اور تہذیبی اقلیتوں اور سماجی اکائیوں کی تنظیمیں اس لئے یکجا ہو رہی ہیں کیوں کہ ان کو دکھائی دے رہا ہے ان کے مذاہب خطرے میں ہیں۔ یہاں تک کے دستور تک کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ مسئلہ صرف جانی اور مالی نقصان کا نہیں ہے۔ پرسنل لا بورڈ کا دائرے کار محدود ہے ، جانی اور مالی نقصان کے تحفظ کے لئے دوسری جماعتیں ہیں۔ پرسنل لا بورڈ کا سروکار دین و شریعت کے تحفظ تک محدود ہے۔ چونکہ دین و شریعت پر خطرہ درپیش ہے اور مذہب کو برہمنی کلچر میں ضم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اس لئے پرسنل لا بورڈ کو یہ مہم چھیڑنی پڑی۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری اقلیتیں بھی خطرہ محسوس کر رہی ہیں جن کے نمائندے بڑی تعداد میں پروگرام میں شریک ہوں گے۔

ہندوستان میں بریلوی سنّی مسلمانوں کے بڑے لیڈران میں شمار کئے جانے والے مولانا توقیر رضا خاں صاحب کا بھی نام جلسہ کے پوسٹروں میں موجود ہے اور ان کی آمد بھی متوقع ہے۔ آر.این.آئی. نے مولانا سے بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی عُرس کی مشغولیات سے فارغ ہوئے ہیں جس میں تشریف لائے مہمان ابھی بھی موجود ہیں۔ دین و دستور پر درپیش خطرے کے بارے میں سوال پوچھا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے کوئی رائے ظاہر کرنے سے پرہیز کیا کہ عُرس کی تھکان کے سبب ابھی دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے۔ ان کی جلسہ میں آمد بھی مشکوک ہے۔

ڈاکٹر کلب صادق صاحب، جو مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ہیں، ہم نے اس توقع سے ان کو ٹیلی فون کیا کہ شائد وہ اپنی رائے دیں گے کہ دین و دستور کو کس قدر خطرہ موجود ہے اور اس کا تدارک کیوں کر ممکن ہے؟ لیکن ان سے بات چیت کا بھی کوئی حل نہیں نکلا کیوں کہ انھوں نے تو ابھی اس مسئلہ پرغور ہی نہیں کیا ہے۔ ڈاکٹر کلب صادق اپنی رائے دینے کے بچائے بار ہا یہی کہتے رہے کہ آپ اگر کوئی تجویز جلسہ میں رکھوانا چاہتے ہیں تو بتا دیں تاکہ اس کو رکھا جا سکے۔ انھوں نے کہا: ’’ابھی میں نے اس مسئلہ پرغور نہیں کیا ہے، آپ کہئے تو میں آپ کی رائے رکھوں گا۔‘‘

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ڈاکٹر کلب صادق صاحب امروہہ پہنچ چکے ہیں اور مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں شامل ہوں گے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب، اگر آپ نے اب تک غور ہی نہیں کیا ہے کہ دین و دستور کو کیا خطرہ درپیش ہے تو امروہہ تک صفر کر کے کیوں آ گئے؟ آپ کا جواب مسلمانوں کو درپیش مسائل کی بھرپور عکّاسی کرتا ہے اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ مسلمان بڑے نام والے لیڈران کی موجودگی کے باوجود کیوں اپنے سامنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈ پانے سے قاصر ہیں۔

دین و دستور کو خطرہ ہے، اس میں دو رائے نہیں۔ لیکن ہماری قیادت اس خطرے کا سامنے کرنے کو کس قدر تیار ہے، اس پر بات چیت ہونا ضروری ہے

آر.این.آئی. نیوز بیورو

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.