شام نے ہندوستان کی ’’عدم مداخلت‘‘ اور ’’سیاسی حل‘‘ کی پالیسی کی ستائیش کی

محمد احمد کاظمی/آر.این.آئی.

شام کی بشاراسد کی حکومت جو کہ گذشتہ کئی برسوں سے آئی.ایس. (دائش) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں سے متاثر ہے، نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کی ستائش کی ہے جس میں دہشت گردی کو ’’اچھی ‘‘ اور ’’بری‘‘ دہشت گردی میں تقسیم کرنے کے نظریہ کو مسترد کیا گیا تھا۔ دمشق نے ہندوستانی حکومت اور عوام کے اصولی ردِّ عمل کا شکریہ ادا کیا ہے جس کے مطابق شام کے مسئلہ کے حل کے لئے غیر ملکی مداخلت اور سیاسی حل کی تلاش کی حمایت کی گئی ہے۔syrianambassador

محمد احمد کاظمی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران شام کے ہندوستان میں سفیر ڈاکٹر ریاض کامل عباس نے کہا ’’میں ہندوستان کے اس موقف کی دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتا ہوں جس کے تحت شام میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت اور سیاسی حل کے تلاش کی حمایت کی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے ہندوستان کی جانب سے شام کی عوام کی خواہشات کے احترام اور بین الاقوامی سطح پر شام کی حمایت کی بھی خاص طور پر ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی طرح دیگر ممالک بھی یہی موقف اختیار کریں تو شام کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ آئے۔

ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شام کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے جس کی تکلیف کو ہندوستانی عوام اچھی طرح سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی عوام شام کی عوام کی حمایت کرتی ہے۔syria

ایران کی جانب سے اس مشکل گھڑی میں شام کو ملنے والے تعاون کے سلسلے میں کئے گئے سوال کے جواب میں شام کی سفیر نے کہا کہ ان کے ملک کو ایران کے ساتھ تعلقات پر فخر ہے۔وہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمیشہ ہمارے معاون و مددگار ثابت ہوئے ہیں جیسا کہ ہم نے بھی بین الاقوامی سطح پر ان کی حمایت کی ہے۔ تہران شام کے عوام کے جائز حق کو تسلیم کرتا ہے اور ایران کی خارجہ پالیسی بغیر کسی جھکاؤ کے سیدھی اور صحیح ہے۔ ایران فلسطین میں عربوں کے حقوق کی لبنان میں اسرائلی قبضہ کے خلاف جد و جہد کرنے والوں کی اور اسرائلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں میں شامی عوام کی مدد اور حمایت کرتا ہے۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان حالیہ معاہدہ پر کئے گئے سوال کے جواب میں شام کے سفیر ڈاکٹر ریاض کامل عباس نے کہا کہ اس معاہدہ کے بعدتیل اور گیس کے ہر ضرورتمند ملک کو ایران کا رخ کرنا پڑے گاکیوں ککہ ایران ایندھن کی فروخت بغیر کسی سیاسی شرط کے کرسکے گا۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’ایران سے ایندھن خریدنے پر کسی بھی ملک کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرنی پڑیگی‘‘ جبکہ اب سے پہلے بین الاقوامی خرید و فروخت سیاسی شرائط پر مبنی ہوتی تھی۔

شام کے سفیر نے ایک اور سوال کے جواب میں لبنان کی حسن نصراﷲکی قیادت والی حریت پسند تحریک حزب ﷲ کی جانب سے شام کی اس مشکل وقت میں مدد کرنے کے لئے ستائیش کی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم حزب اﷲ کے کردار کی دل کی گہرائی سے ستائش اور شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اب سے پہلے شام کی حکومت نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضہ کے خلاف حزب اﷲ مزاحمتی گروپ کی مدد کی تھی۔ اسی طرح شام نے فلسطین کے مزاحمتی گروپ حماس کی بھی حمایت کی تھی۔ لیکن موجودہ بحران کے دوران حماس نے شام کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا ہے جبکہ حزب اﷲ نے شام کی بھرپور حمایت اور مدد کی ہے۔

ہندوستان میں شام کے سفیر نے حزب اﷲ کے تعلق سے امریکہ اور اسرائل کی جانب سے اس کے دہشت گرد گروپ ہونے کے پروپیگنڈے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اﷲ اپنی سرزمین کی آزادی کے لئے مذاحمت کرتا ہے اور اسرائل کے علاوہ دنیا کے کسی ملک کے لئے کوئی پریشانی کھڑی نہیں کرتا۔ جبکہ القائدہ، طالبان، دائش وغیرہ دہشت گرد گروہ اسرائل کے علاوہ سبھی ممالک میں بدامنی پھیلانے اور مشکلات کھڑی کرنے میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں نظریات میں یہ بنیادی فرق ہے جسے دنیا کو سمجھنا چاہئے۔

آر.این.آئی. نیوز بیورو

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.