نفسِ انسانی کیا ہے؟

نفسِ انسانی کیا ہے؟ کیا انسانی نفس کی کوئی ابتدا ہے؟ کیا اس کا انجام ہوگا؟

دلائی لامہ

(بھورے رنگ میں تشریحات جملہ معترضہ میں)

تعارفی کلماتdalai-lama

جب ہم مذاہب کی بات کرتے ہیں یا عمومی طور پر روحانیت کا ذکر کرتے ہیں تو سب مذاہب کے لئے احترام کا رویہ اپنانا اہم ہو جاتا ہے اور ان مذاہب کے جوہر اور اصل کو جاننا اور اس کی صحیح حیثیت پہچاننا بھی اہم بن جاتا ہے تاکہ ان کی قدروقیمت متعین کی جا سکے۔ یہی مذہب کا حصہ ہے کے فروغ یہم اہنگ ۔

بین المذاہب مکالمے میں ہمیشہ تین سوال درپیش ہوتے ہیں:

“‘میں’ کون ہوں؟”

“نفسِ انسانی یا ذاتِ انسانی کیا ہے؟

” اور “یہ جو ‘میں’ یا میری ذات یا ہستی ہے وہ کہاں سے آئی ہے؟”

اور “اس کی کوئی ابتدا ہے یا نہیں اور آخر الامر کیا ہوگا، اس کا کوئی انجام ہے یا نہیں؟

” سارے بڑے مذہب انہی تین سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

نفسِ انسانی کیا ہے؟

اب پہلے سوال کو لیجیئے، “نفسِ انسانی یا ‘میں’ کیا ہے؟” سادہ مذہبوں کے بعض ماننے والے مقامی ارواح کی پرستش کرتے ہیں، لہذا انہیں ان تین سوالوں کی کوئی خاص فکر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی سانحہ ہو جائے ، دکھ تکلیف میں وہ صرف کسی مقامی دیوی دیوتا کی پوجا کر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کے بڑے مذاہب کی جہاں تک بات ہے تو ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے ہاں بدھ مت سے تین ہزار سال پہلے بھی ان تین سوالوں کے جواب کے لیے تلاش کا عمل نظر آتا ہے۔ حال ہی میں میری ملاقات مصر کی ایک یونیورسٹی کے ایک دانشور سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مصری تہذیب میں پانچ ہزار سال قبل مذہبی فلسفے کی نشوو نما ہوچکی تھی اور آخرت اور آئندہ زندگی کے تصورات موجود تھے۔ مراد یہ کہ یہ سوالات ماضی میں بہت دور تک نظر آتے ہیں۔

بات یزدانی دین کی ہو یا غیر یزدانی دین کی یعنی ایسے دین کی جس میں تصور ِخدا ہو یا ایسے مذہب کی جس میں معروف تصور ِخدا موجود نہ ہو، دونوں صورتوں میں “نفس انسانی کیا ہے؟” کے سوال پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک علیحدہ ، اپنی جگہ مستقل ہستی ہے جو جسم کے ساتھ ساتھ موجود ہے اور جو جسم کا مالک ہے۔ یہ جسم اور ذہن دونوں کے مجموعے سے زائد اور الگ ایک چیز ہے۔ سب کا دعویٰ یہ ہے کہ ایک نفسِ انسانی کا و جود ہے جو بدن سے آزاد، بے اجزاء اور خود مختار ہے۔ بہت سے مذاہب میں روح کا جو تصور پایا جاتا ہے اس میں شاید یہ تینوں اوصاف موجود ہیں۔

صرف بدھ مت ایک ایسا مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ جسم اور ذہن کے مجموعے سے الگ نفسِ انسانی کی کوئی ہستی نہیں ہے۔ بدھ مت عام طور پر جن اصطلاحات میں بات کرتا ہے وہ یہ ہوتی ہیں: ناپائداری، دکھ، اور عاری پن اور بے نفسی۔ یہ دھرم کی وہ چار امتیازی خصوصیات ہیں یا چار نکات (کا حصہ) ہیں جن سے اس بات پر مہر ہو جاتی ہے کہ اس نقطۂ نظر کی بنیاد بدھ فلسفی کے یریروشن ضم دینے والے افکار و تعلیمات پر ہے اور یہ کسی غیر بودھ نقطۂ نظر سے متعلق نہیں ہے۔عاری پن اور بے نفسی جس کا مطلب ہے، نفسِ ناممکن سے کاملاً تہی۔ چار میں سے تیسری امتیازی خصوصیات یہی ہے۔چاروں متعین (متاثر) ہیں، مظاہر طبعی دائمی نہیں ہیں (غیر سکونی)؛ متاثر شدہ مظاہر طبعی دکھ ہیں یا دکھ کا باعث بنتے ہیں۔سب مظاہر طبعی عاری ہیں (اور ایک ناممکن روح یا نفسی سے تہی ہیں) اور نروان سکون ہے (دکھ کو دور کرکے سکون لاتا ہے

نفس کیا ہے؟” اس سوال کے دو بنیادی جواب ہیں۔ (یا تو جسم اور ذہن کے علاوہ ایک نفس بھی ہے جو ان سے الگ اور آزاد ہے یا پھر اس طرح کا نفس نہیں پایا جاتا۔)

کیا نفس انسانی کا کوئی آغاز بھی ہے؟

اس کے بعد یہ سوال ہے کہ “کیا نفس کا کوئی آغاز ہے؟” کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نفس کا کوئی سبب نہیں ہے اور وہ جسم و ذہن کے یکجا ہونے سے خود بخود پیدا ہو جاتا ہے لہذا بلا علّت ہے۔ بلکہ وہ تو کائنات کے آغاز کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ کسی علت، کسی بھی شے سے اپنا آغاز نہیں رکھتا۔ یہ تو اصل میں سائنس کا موقف ہے۔ ہندوستان میں چارواکیوں کا موقف بھی یہی تھا جو مادہ پرست تھے۔ لیکن چونکہ “بلا علت”ایک مضطرب کرنے والی بات ہے اس لئے زیادہ تر لوگ اسی خیال کے حامل ہیں کہ کوئی نہ کوئی علت اور شرطِ آغاز ہونا ضروری ہے۔

ہندوستان میں فلسفے کا سانکھیہ مکتب فکر یہ کہتا ہے کائنات ایک ازلی، پراچین مادے سے بنا ہے۔ اسے یہ “پرکْرِتی” کہتے ہیں اور اس میں تین کا ئناتی تشکیلی عنصر ہوتے ہیں یعنی اس کے تین “گُن”- اس موقف کے مطابق کائنات کی علت سکونی بھی ہے اور دائمی ازلی بھی۔ دوسرے لوگ جو ایک تخلیق کرنے والے (خالقِ کائنات) خدا یعنی ایشور کو مانتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ کائنات منشائے ایزدی سے پیدا ہوئی ہے، ایک ماورائی ہستی کی مرضی اور ارادے سے وجود پاتی ہے۔ سارے یزدانی مذاہب اسی خیال کو مانتے ہیں یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام۔ یہ سب کہتے ہیں کہ نفس (روح) کو خدا نے تخلیق کیا۔ سو ان کے ہاں تخلیق اور “میں کہاں سے ہوں؟” کا تصور اس سوال کا جواب ہے۔

یزدانی مذاہب کے اندر بھی دو نقطۂ نظر ہیں۔ یہ کہ زندگی صرف ایک ہی ہے (اس دنیا کی زندگی) مثال کے طور پر یہ عیسائیت کا نقطۂ نظر ہے۔ دوسرا یہ کہ کئی زندگیاں ہیں یعنی جنم در جنم، آواگون۔ یہ ہندوستان کا نقطۂ نظر ہے۔ پس ہندوستان کے نقطۂ نظر کے مطابق ایشور یا برہما نے روح کو کئی زندگیاں دے کر پیدا کیا اور ہر زندگی میں کرموں کی وجہ سے تھوڑا سا فرق ہو گا۔ مزید برآں ہندوستانی موقف کے مطابق ایک خالق بھی ہے اور علت معلول کا سلسلہ بھی۔ عیسائیت صرف اس زندگی کی بات کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ اسے خدا نے تخلیق کیا ہے۔ ہمارا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت مفید اور زوردار خیال ہے اس سے قربِ خدا وندی کا ایک طاقتور احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس میں خدا کا حکم ماننے، اللہ سے پیار کرنے اور خلقِ خدا کی مدد کرنے کا زیادہ امکان پایا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ میں پاکستانی سرحد کے قریب لدّاخ میں مسلمانوں کی ایک آبادی میں تھا۔ میرا ایک مسلمان دوست مقامی لوگوں کا امام تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ اسلام میں بھی یہی ہے کہ ایک سچے مومن کو ساری خلقِ خدا سے بھی ویسا ہی پیار کرنا چاہیئے جیسا کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے۔ یہ وہی بدھ مت کا نقطۂ نظر ہے کہ انسان کو ساری ذی شعور مخلوقات سے پیار کرنا چاہیئے۔ چنانچہ ان یزدانی مذاہب میں جہاں خدا کو روح کا خالق مانا گیا ہے اللہ سے نزدیک ہونے کا ایک قوی احساس پایا جاتا ہے اور اس سے اللہ کا حکم ماننے کا زیادہ شوق اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

کچھ اور مذاہب ایسے ہیں جو خالق کا تصور نہیں مانتے۔ ان میں جین، بدھ مت اور سانکھیہ کے کچھ حصے شامل ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہر شے (محض) شرائط و احوال اور علت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔

سو اس نکتے کے بارے میں کہ یہ “میں” یا نفس کہاں سے آیا ہے ہمارے پاس دو تصورات ہیں، ایک یزدانی اور دوسرا غیر یزدانی۔ ان میں غیر یزدانی موقف جین مت، بدھ مت اور سانکھیہ والوں کےایک گروہ کا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق کوئی آغاز نہیں ہے صرف قانونِ علت و معلول ہے۔

مجھے اس سلسلے میں سانکھیہ والوں کے یقینی جواب کا علم نہیں ہے۔ لیکن پراچین مادے میں متواتر تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور اگر پراچین مادہ اور نفس انسانی دونوں ہی حتمی طور پر حقیقی ہیں اور دیگر تئیس مظاہر جن کا وہ ذکر کرتے ہیں اسی پراچین مادے کےتغیّرات ہیں اور نفس پراچین مادے کو جانتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “کیا نفس اسی پراچین مادے سے پیدا ہوتا ہے جیسے کوئی اور چیز اس سے نمودار ہوتی ہے یا یہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں؟” میرا خیال ہے کہ اصل میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دونوں بالکل الگ ہیں۔ تو پھر دونوں میں باہمی تعلق کیا ہے؟

بدھ مت کا نقطۂ نظر اس سے الگ ہے۔ ان کی طرف سے ایک آزاد، اپنی جگہ مستقل نفس کا تصور رد کیا جاتا ہے ، ایسا نفس جو نہ صرف اس کائنات سے الگ ہے بلکہ جسم اور ذہن کے مجموعے سے جدا اپنا وجود رکھتا ہے۔ بدھ مت کا کہنا یہ ہے کہ نفس (جسے عموماً موجود مانا جاتا ہے ، محض ایک “میں”) ایک ایسی چیز ہے جو اپنے اجزاء کا مجموعہ ہے، اس کا دارومدار جسم اور ذہن پر ہے۔

اگر نفس اپنے وجود کے لئے جسم اور ذہن کے مجموعے کا محتاج ہے اور اسے صرف ان کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے تو نفس کے آغاز و ابتدا کا سوال ہمیں اس سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ جن چیزوں سے مل کر یہ بنا ہے اس مجموعے کا ، ذہن اور جسم کے اس سلسلے کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ اس کے بارے میں سادہ سی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ذہن اور جسم بھی ہے۔ نفس کو عنوان دینے، کسی نام سے منسوب کرنے کی بنیاد چونکہ اساسی طور پر(فرد کے) اس ذہنی عمل یا شعور کے تسلسل پر رکھی جاتی ہے سو ہمارا سوال یہ بنتا ہے کہ 🙁فرد کی) “اس ذہنی سرگرمی، ذہن کے عمل کے تسلسل کا سرا کہاں ہے؟ کیا اس کی ابتدا ہے؟”
جہاں تک خارجی مظاہر کا تعلق ہے تو ان کی افزائش کے اسباب حصول ہیں اور ہم زمانی طور پر کار فرما احوال و شرائط ہیں حصو لِ علت وہ ہوتا ہے جس سے ہم اس کے بعد آنے والا اس کا معلول یا نتیجہ حاصل کر لیتے ہیں اور جو اپنا معلول یا نتیجہ پیدا ہونے کے بعد خود باقی نہیں رہتا (جیسے بیج اپنے پودے کیلئے سببِ حصول ہوتا ہے) جبکہ ہم زمان طور پر کار فرما احوال و شرائط اس سببِ حصولی کو اپنا نتیجہ پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں (جیسے پانی مٹی اور سورج کی روشنی پودے کیلئے ہم زمان شرائط و احوال کا کام دیتے ہیں۔)

بصری ادراک کے لئے، دیکھنے کیلئے (ان دو اسباب) کے علاوہ اپنے ظاہر ہونے کے لئے ایک خارجی چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس پر نگاہ مرکوز کی جا سکے، بطور شرطِ ماسکہ کے اور دیکھنے کی حس یعنی آنکھوں کے (وہ خلیے جو محسوس کرتے ہیں) جنہیں شرطِ غالب کہا جاتا ہے۔(ایک لمحے کے) بصری ادراک کیلئے ایک فوری ما قبل شرط کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی اساسی فطرت کا تسلسل بطور شعور نمو پذیر ہوسکے۔ اس طرح بصری ادارک کے ایک لمحے کےلئے جو فوری ماقبل شرط ہے وہ خود ایک اور لمحۂ شعور ہے جو اس سے فوراً پہلے واقع ہوتا ہے۔( وہ سادہ ذہنی ادراک جو کسی شے کی صورت کو اپنے مُدرک کے طور پر قبول کرتا ہے اس کے لئے ادراک سے فوری پہلے کے لمحے میں اس صورت کا ایک سادہ بصری ادراک فوری ما قبل شرط کے طور پر موجود ہوتا ہے)اب ، اس صورت کے تصور میں ادراک (جو اس کے محض ذہنی ادراک کے بعد واقع ہوتا ہے) کرنے کیلئے بھی شعور کے تسلسل میں ایک لمحۂ ماقبل کی ضرورت ہوتی ہے جسے اس کی فوری ماقبل شرط کہا جائیگا۔ (یہ اس صورت کا سادہ ، واجبی ذہنی ادراک ہوگا۔) کیا یہ فوری ماقبل شرط اس کا حصولی سبب مانا جائیگا؟ میرے خیال میں یہ درست ہے مگر بات واضح نہیں ہوئی۔

 محض حسّی (یا محض ذہنی) ادراک صرف کسی شے کی اساسی فطرت یا ماہیت کے ادراک ہوتے ہیں (یعنی یہ کہ یہ شے عمومی طور پر کس نوع کی چیز ہے مثلاً یہ کہ نظر آنے والی صورت ہے۔) اس سے کسی شے کی عملی ماہیت کے ادراک نہیں ہیں (یعنی اس چیز کا ادراک کہ کوئی شے کیسے عمل کرتی ہے۔) اس کا کام کیا ہے۔کسی صورت کے (بصری اور ذہنی) ادراک کے اس (ترتیب وار سلسلے) کے بعد (اسی صورت کا) ذہنی تصور پیدا ہوتا ہے جو ذہن میں اسے معنی و مفہوم کے طور پر شعور میں لاتا ہے۔یہی (سلسلہ) “میں” اور “میری” کے طور پر (اس صورت) ادراک کی نمو کرتا ہے۔سو ان تصوراتی اور آگہی کے اپنے حصولی اسباب ہیں۔

حسی ادراک ان شرائط و احوال سے پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ارد گرد ہوتی ہیں لیکن سپنوں کے بغیر گہری نیند میں ادراکِ حسی ظاہر نہیں ہوتا۔ ادراکِ ذہنی پھر بھی موجود رہتا ہے۔

اب یہ دیکھئے کہ (انوتر یوگا) تنتر میں ہم شعور کے مختلف لطیف درجات کی بات کرتے ہیں۔ ایک طرف تو سوئے ہوئے انسان کے ذہن کی صاف حالت ہے اور اس درجے کو پہچاننے کے کچھ عملی طریقے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گہری نیند میں بھی ذہن کام کرتا رہتا ہے۔ ناگارجن کی کتاب “پانچ مراحل” میں گوہیاسماج کے بارے میں جو لکھا ہے اور اس موضوع پر ناگبودھی متون اور ان کی شرحوں میں جو بیان ہوا ہے اس میں ذہن کے تین لطیف درجات پیش کئے گئے ہیں جو ظاہری صورتوں کو شکل دیتے ہیں( سفید جھلک، سرخ اضافہ اور کالی تکمیل) اور اس کے ساتھ چار خلا یا چار ویرانے (خلا، بہت خالی، بہت بڑا خلا اور تمام خلا۔ خالی ہونے یا ویرانی کے پہلے تین درجات ذہنی سرگرمی کی وہ لطیف حالتیں ہیں جو ذہن کے ظاہری صورتیں بنانے والے تین درجات سے متعلق ہیں۔ تمام خلا ذہنی عمل یا ذہن کی مطابقت کے اس لطیف ترین درجے کے برابر آتا ہے جسے صاف روشن ذہن کہا جاتا ہے

چوتھا ویرانہ، چوتھی کیفیتِ خلا یعنی تمام خلا سے(فوراً) پہلے خالی پن کی باقی تین حالتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ تینوں (ذہن کے لطیف ظاہری صورتیں بنانے والے ، پہلی تین درجات ترتیب وار) نمودار ہوتی ہیں اور ان میں سلسلہ وار پیشرفت ہوتی ہے (جس میں شعور کے کثیف یا ملگجے درجات ایک ایک کرکے تحلیل ہوتے جاتے ہیں اور آخر میں موہدت کے وقت صاف روشن ذہن میں گھل جاتے ہیں۔)ان کے بعد (صاف ، روشن ذہن کے ایک وقفے کے بعد، ترتیب وار) الٹ ترتیب سے (ان تین کا)سلسلہ شروع ہوتا ہے۔آگے بڑھنے اور واپس لوٹنے کا اسی سے ملتا جلتا عمل نیند میں واقع بھی ہوتا ہے جسے شناخت کرنا ممکن ہے۔یہی معاملہ موت اور پُنرجنم کے درمیانی وقفے (برزخ) کا بھی ہے۔(تحلیل کا) ایک ترتیب وار عمل اس (کے اختتام پر) ابھی واقع ہوتا ہے۔جب برزخ کا صاف روشن ذہن اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہوتا ہے تو وہیں سے (اسی لمحے، الٹ ترتیب کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی) جنم لینے کا شعور (حمل ٹہرنے کے لمحے سے)پیدا ہوجاتا ہے۔

یہاں نکتہ یہ ہے کہ ذہن یا شعور کے ان سب مختلف درجات میں سے ہر ایک کا ایک سبب حصول ہے (جس سے یہ نتیجے کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں) اور جیسا کہ (دھرم کیرتی کی) “(دگناگ کے) ‘صحیح پہچان رکھنے والے من کے تالیف’ پر تبصر” میں آیا ہے کہ ” شعور کا سببِ حصول بھی لازماً شعور ہی ہونا چاہیئے۔” بنا بریں ہم اس بیان کو گوہیا سماج تجزیے کی روشنی میں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ چنانچہ (حمل قرار پانے کے لمحے میں) جنم ہستی کے شعور کا سببِ حصول برزخ کا صاف روشن ذہن ہوگا۔

جہاں تک ہندوستان کے غیر بدھ مت والے مکاتبِ فلسفہ کا تعلق ہے جن کے ہاں پچھلے جنموں اور آتما کا عقیدہ پایا جاتا ہے، ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک غیر متحرک، نہ بدلنے والی ذات ہے جو نیا جنم حاصل کرتا ہے اور پرانے جنم کو ترک کر دیتا ہے۔ پچھلے اور آئندہ جنموں کے وجود کو مان کر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آتما ہی دوبارہ جنم لیتی ہے، یہی اس پُنر جنم کی فاعل ہے۔بدھ مت ایسے نفس یا آتما کو رد کرتا ہے جو سکونی اور غیر متغیر ہو۔ بدھ مت کا دعویٰ یہ ہے کہ پچھلی اور آئندہ زندگیوں کا وجود ایک (انفرادی) تسلسلِ شعور پر ہے۔(یہ بات اس امر سے ثابت ہوتی ہے کہ شعور کا سبب حصولی یا دوسرے لفظوں میں اس کا ما قبل لمحۂ شعور اس وقت معدوم ہوجاتا ہے جب اس کے بطن سے لمحۂ آئندہ جنم لیتا ہے۔مزید برآں، چونکہ انفرادی تسلسلِ شعور غیر سکونی ہوتا ہے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے وہ شعورِ ذات یا احساسِ نفس جو اس تسلسلِ شعور پر مبنی ہو، اس کی نسبت سے قائم ہو، وہ بھی لازماً غیر سکونی ہوگا۔)

 کیا نفسِ انسانی کا کوئی انجام ہے

اب اس سوال کو لیجیئے کہ نفس انسانی کا انجام اور اختتام ہے یا نہیں۔(بعض یزدانی مذاہب یہ کہتے ہیں کہ) موت کے بعد ہم ایک آخری فیصلے کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے بعد جنت یا دوزخ میں جاتے ہیں۔ اگر ہم جنت میں جاتے ہیں تو خدا کے حضور نغمہ سرا ہوں گے۔ بہت خوب۔ بدھ مت بھی اس سے ملتی جلتی بات کہتا ہے اور دوزخوں کا ذکر بھی کرتا ہے( لیکن دونوں کو پُنر جنم قرار دیتا ہے جن کے بعد اور بھی پُنر جنم ہوں گے)۔ اب مجھے یہ تو معلوم نہیں ہے کہ اس طرح تشریح کے مطابق نفسِ انسانی کا انجام ہے یا نہیں( جب وہ جنت یا جہنم میں پہنچ جاتا ہے)۔ بعض برہمنی روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ نفسِ انفرادی عظیم برہما میں مدغم ہو جاتا ہے۔ تو کیا یہ واقعی انجام و اختتام ہے یا نہیں؟ میں اس کے بارے میں بھی نہیں جانتا۔ بعض غیر یزدانی مذاہب، مثلاً جین مت والے، ” مکش” کو مانتے ہیں اور ان کے بعض صحیفےیہ کہتے ہیں کہ “مکش” ایک طرح کی جنت ہے اور انسان وہاں ہمیشہ رہے گا۔

جین مت کے ان مکاتب فکر کے اصل موقف کا تو مجھے پتا نہیں لیکن بدھ مت میں اس کے بارے میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ پہلا دعویٰ یہ ہے کہ جب آپ کو “نروان” مل جائے تو پھر اس زندگی کے بقیہ عرصے کے لئے جسم باقی رہتا ہے (جیسے ذہن باقی رہتا ہے اور نفس جو ان دونوں کے تسلسل کا نام ہے)۔ اس کو “نروان تلچھٹ والا” کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن جب یہ (ذہن اور جسم کی) حاصل جمع جو پچھلے کرموں سے پیدا ہوئی تھی لمحۂ مرگ پر آ کر ختم ہو جاتی ہے تب (جسم کے ختم ہونے کے ساتھ) نفس اور شعور کا تسلسل بھی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔اسے “بے تلچھٹ نروان” کہتے ہیں۔ سو یہاں آکر پھر کوئی نفس اصل میں رہ ہی نہیں جاتا۔ (نفس اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔)

 دوسرا دعویٰ جو عمومی مہایان بدھ مت کی طرف سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ مرکزی اور بڑے شعور کے ختم ہونے کی تو کوئی وجہ نہیں ہے۔ وہ خیالات جو فریب خوردہ یا بگڑے ہوئے ادراک پر مبنی تھے یہاں آکر ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ اب فہم کا ایک اور انداز مل جاتا ہے جو پہلے کے برعکس ہے اور اس سے ان خیالات کا اصل سبب ہی سے پیچھا چھوٹ جاتا ہے۔ (درست سمجھ بوجھ اور بگڑے ہوئے ادراک ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک ہی ذہنی لمحے میں دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔) لیکن اس سے ملتی جلتی کوئی چیز ایسی نہیں جو صاف روشن ذہن کے مقابل آ سکے۔ اسی لئے انفرادی صاف روشن ذہنوں کا کوئی اختتام نہیں ہوتا اور وہ نفس جس کا دارومدار کسی صاف روشن ذہن سے منسوب ہو، اس کا بھی کبھی خاتمہ نہیں ہوتا۔ فریبی ادراک کی پیدا کردہ عادتیں اگرچہ ایک جگہ آکر ختم ہو جاتی ہیں لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ایک صاف روشن ذہن بھی اختتام سے دوچار ہو۔ سو بدھ مت کے دو موقف ٹھہرے: ایک یہ کہ نفس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ نفس کو دوام ہے۔

خلاصہ

گزشتہ تین ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ کے عرصے میں مختلف مذہبی روایتیں پروان چڑھیں اور انہوں نے ان تین سوالوں کا جواب لانے کی سعی کی۔ ان تمام بڑی روایتوں کے دو پہلو ہیں: ایک مذہبی حصہ اور ایک فلسفیانہ جہت یا دوسرے لفظوں میں ایک وہ پہلو جو دل کو رام کرنے کے لیے عملی تعلیمات سے متعلق ہے اور فلسفے کا سہارا ان کی تائید اور پشتیبانی کرتا ہے۔ یوں تمام روایتوں میں عقل و ایمان لازماً ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ بدھ مت یہ کہتا ہے کہ عملی تعلیمات تو طریقہ ہے اور فلسفیانہ تعلیمات جو اس کی پشتیبان بنتی ہیں انہیں حکمت کا پہلو قرار دیا جانا چاہیئے۔ عملی پہلو میں بطور ایک طریقے کے بنیادی طور پر ایک آرزو کی پرورش کی جاتی ہے۔(جیسے یہ خواہش کہ ہم ہر ایک کی مدد کرنے کے قابل ہو جائیں جس سے وہ اپنے دکھ درد دور کر سکے۔)

میں بعض اوقات مذہب کی دو قسمیں بتایا کرتا ہوں: خدا والے اور بے خدا، یزدانی اور غیر یزدانی۔ بدھ مت غیر یزدانی مذہب ہے۔ یزدانی اور مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق بدھ مت کوئی معتبر دین نہیں ہے، بلکہ لادینیت کی ایک شکل ہے۔ بعض دوست یہ کہتے ہیں کہ بدھ مت “خدا تک پہنچنے کا ایک وسیلہ” ہے اور اس لئے ضدِ خدا یا خدا مخالف نہیں ہے۔ یوں بعض دوست میری بات کی اصلاح کرتے ہیں۔

میرا احساس یہ ہے کہ یزدانی مذاہب میں بنیادی مذہبی تصور خدا کا تصور ہے۔ بدھ مت کے کچھ ماننے والے کہتے ہیں کہ بدھ مت تو بدھ فلسفی سے آتا ہے لیکن شاکیہمُنی بودھ تو ایک محدود ذی شعور ہستی تھے۔ بودھ گیا کے واقعے تک، عام خیال کے مطابق، وہ ایک محدود وجود ہی تھے۔ سنسکرت روایت کے مطابق چار بودھ جسم اور “کایا” ہیں اس لئے یہ بات قدرے مختلف ہے۔ لیکن اس سے قدیم تر پالی روایت یہ بتاتی ہے کہ شاکیہمُنی کی زندگی کا ابتدائی حصہ ایک محدود ذی شعور ہستی کے طور پر گزرا اور پھر بعد میں وہ بودھ بنے جسے نروان کی روشنی مل گئی۔ پس اگرچہ یہ درست ہے کہ بدھ فلسفی کی تعلیمات اس وقت کی ہیں جب وہ نروانی بودھ بن چکے تھے لیکن خود بدھ فلسفی تو ایک محدود ہستی تھے۔ مطلب یہ کہ بدھ مت انسانی سطح سے صادر ہوتا ہے کسی خدا کی طرف سے نہیں آتا۔ اگر خدا ایک کاملاً نروان یافتہ ہستی ہے تو پھر بدھ فلسفی بھی خدا آسا ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک محدود ہستی ہی سے بنے تھے۔

بدھ مت کا نقطۂ نظر اور نظریہ موجود حقیقت پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر چار بلند و بالا (آریہ) سچائیاں کو دیکھیئے۔ دکھ تکلیف اور اس کے اسباب حقیقی دنیا کی چیز ہیں۔ بے بے نفسی کی تشریح کرنا حقیقت کی نوعیت پر بات کرنا ہے۔ نروان کا تصور اس پر مبنی ہے۔ بدھ مت کی بعض کتابیں لکھتی ہیں “حقیقت کی اصلی، اساسی ماہیت کو بنیاد بناؤ، اس پر مبنی طریقے کو بطور راستہ اپناؤ اور پھر اس سے تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ گے”۔

اس طرح میں بدھ مت کے فلسفے یا سائنس کو بودھ مذہب سے الگ کرتا ہوں۔ بدھ مت کے سائنسی پہلو کو دیکھیئے تو اس سطح پر اخلاقی جانچ پرکھ کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہاں صرف اس چیز کی کھوج کرنا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ اس نوع کی تلاش کا عمل کرنے کے لئے جستجو کا راستہ معروضی اور بے تعصب ہونا چاہیئے۔ ہاں تشکیک ضرور درکار ہے کیونکہ اس کام کے لئے تشکیک اہم ہے۔ شک کرنے سے سوال ابھرتے ہیں، سوالوں سے تلاش و جستجو کا عمل شروع ہوتا ہے اور اس سے (معروضی اور غیر جانبدار)جوابات کی راہ کھلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر ہندوستان کی نلندا یونیورسٹی کی سنسکرت روایت کے مطابق (جسے تبتی بدھ مت نے اختیار کیا ہے) منطق پر بہت زور دیا گیا ہے۔ عمل کرنے کے لئے سوالات کیوں اٹھائے جائیں؟ اس لئے کہ ہم حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔ عمل کی بنیاد حقیقت پر استوار ہونا چاہیئے اس لئے جانچ پڑتال ضروری ہے۔

مذہب اگر محض مقدس صحیفوں سے اقتباسات پر مبنی ہوتا تو پھر اس کا دارومدار اصل میں استدلال پر نہیں۔ ہم اقتباس استعمال کر سکتے ہیں مگر منطق کی بنیاد پر۔ بدھ مت میں ہم تین طرح کے مظاہر یا اشیاء پر بات کرتے ہیں: ظاہر، چھپے ہوئے، بالکل چھپے ہوئے۔ آخری قسم کو آپ محض ادراک سے نہیں جان سکتے نہ منطقی نتیجہ نکال کر ہی اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کا علم صرف ایک ذریعے سے ہوتا ہے۔ کسی قابل اعتبار مستند ذریعۂ اطلاع یا سچا صحیح علم رکھنے والے کسی شخص پر بھروسا کر کے۔ (اس ذریعۂ اطلاع کا معتبر اور درست ہونا منطق کی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے۔)

مطلب یہ کہ بدھ مت کی سائنس عالمِ ہستی کی ہر چیز کی ماہیت کا کھوج لگاتی ہے۔ ہر موجود شے کے دو پہلو ہوتے ہیں: جسم کی دنیا اور ذہنی دنیا۔ مادی دنیا کے (تجزیئے اور تلاش کے) میدان میں بدھ مت کے مقابلے میں جدید سائنس بہت آگے نکل چکی ہے۔اس لئے بدھ مت والوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ جدید سائنس سے استفادہ کریں۔ لیکن جہاں تک ذہن اور شعور کا تعلق ہے تو جدید سائنس ابھی اس مرحلے کے ابتدائی حصے میں ہے جسے “نرم سائنس” کہا جاتا ہے۔ عہد قدیم کے ہندوستان میں ، ہندو، جین، بودھ تینوں کے ہاں ذہن اور شعور کا جو علم پایا جاتا تھا اس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بعض سائنس دان اس سلسلے میں مل جل کر کام کرنے، سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سے ہمیں بہت مدد مل سکتی ہے۔

محمود زیدی (نون ویلفئیر ٹرسٹ)

آر۔این۔آئی۔ کی جاری کردہ  یا ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی کسی بھی خبر یا مضمون سے آر۔این۔آئی۔ ایڈیٹوریئل ٹیم کا متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.