ہڑتال کے دوران ایم سی ڈی نے سیکڑوں مکان مالکان کو بھیجے نوٹس

Strike of MCD Unions has just ended but Delhi is still reeling under the effect
Strike of MCD Unions has just ended but Delhi is still reeling under the effect

سرکار کے ایم سی ڈی ملازمین کو جنوری ۲۰۱۶ تک تنخواہیں دیئے جانے کے وعدے کے بعد کئی دنوں سے جاری ہڑتال ختم ہو گئی ہے۔ ہڑتالی ملازمین، جن کی کام پر نا موجودگی کے سبب دہلی کی سڑکوں اور کالونیوں میں کوڑے کے ڈھیر اور بدبو بھری پڑی تھی، اب کام پر لوٹ رہے ہیں۔ لیکن جو بات تمام ہنگامے میں اجاگر نہیں ہو سکی وہ یہ کہ ہڑتال کی مدّت کے دوران، جب ایم سی ڈی ملازمین سڑکوں پر سے کوڑا بھی نہیں اٹھا رہے تھے، ان کے ساتھی مختلف کالونیوں میں چھاپے مار کر بھرے گئے پروپرٹی ٹیکس کا معائنہ کر رہے تھے ، یہاں تک کہ پروپرٹی مالکان کو نوٹس بھی بھیج رہے تھے تاکہ ایم سی ڈی خزانے میں مزید رقم جمع ہو سکے اور کچھ مہینوں کی تنخواہوں کا انتظام ہو سکے۔

جہاں بھی وہ چھاپے مار رہے تھے، ایم سی ڈی ملازمین ان چھاپوں کی وجہ تنخواہوں کا نہ ملنا بتا رہے تھے۔ اس دوران بہتیرے پروپرٹی مالکان کی خود کی گئی ہاؤس ٹیکس کی تشخیص ایم سی ڈی ملازمین کی جانب سے لگائے گئے اندازے سے مختلف پائی گئی۔ ان پروپرٹی مالکان کو اب ڈر ستا رہا ہے کہ ایم سی ڈی نوٹس بھیج کر بھاری جرمانہ اور بقایا رقم پر سود لگانے جا رہی ہے۔

پراپرٹی مالکان جن سے آراین آئی نے بات کی ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی تنازعہ ہو آخرکار عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس معاملے میں بھی یہی ہونے جا رہا ہے۔ جس وقت ہڑتال جاری تھی اور ہڑتالی یونینز بہت سی جگہوں پر پڑے کوڑے کرکٹ کو اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دے رہی تھیں، بعض ایم سی ڈی ملازمین مختلف کالونیوں میں چھاپے مار کر اتنی رقم جمع کرنے کی کوشش میں لگے تھے کہ کچھ مہینوں کی تنخواہیں جمع ہو سکیں۔ آراین آئی کے پاس کافی شواہد موجود ہیں کہ ایم سی ڈی کے جائزہ اور کلکٹر محکمہ کی ٹیمیں ہڑتال کے دنوں میں بھی مختلف کالونیوں میں چھاپے مار کر گھروں اور دکانوں کا معائنہ کرنے اور ڈی ایم سی ایکٹ ۲۰۰۳ کی دفع ۱۲۳ ڈی کے تحت پروپرٹی مالکان کو ہاؤس ٹیکس کا تعین کراکر جمع کرنے یا پہلے سے کئے گئے تخمینے کو دوبارہ کرانے کا نوٹس دے رہی تھیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق سیکڑوں پراپرٹی مالکان کو نوٹس بھیجے گئے ہیں اور اب بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

ایم سی ڈی کے جائزہ اور کلکٹر محکمہ سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ٹیکس نادہندگان پر جرمانہ عائد کرے اور ٹیکس کو جمع کروائے لیکن جس وقت یہ مہم چھیڑی گئی وہ شکوک پیدا کرتی ہے، کیوں کہ اس سے پہلے ایم سی ڈی کے ملازمین کی جانب سے اتنی شدد کے ساتھ چھاپے مار کر اتنی تعداد میں ایک ساتھ پروپرٹی مالکان کو نوٹس نہیں بھیجے گئے۔ جن پروپرٹی مالکان کو نوٹس بھیجے گئے وہ’سیاسی کھیل‘ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جس کے سبب عام آدمی کو خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مرکزی سرکار اور ریاستی حکومت کے جھگڑے کے درمیان عام آدمی ہی پستا آیا ہے۔ ایس کے بھاٹی جو مشرقی دہلی ایم سی ڈی شاہدرہ (جنوب)کے ہاؤس ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں جائزہ اور وصولی دیکھتے ہیں اور مشرقی دہلی کی کئی کالونیوں میں چھاپے مارنے کے بعد مکان مالکان کو نوٹس بھجوا چکے ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ سرکاروں کے درمیان تنازعے میں عام آدمی ہی پریشان ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سرکاروں کے درمیان تنازعے چلتے رہیں گے لیکن اس سرگرمی سے جو رقم جمع ہوگی اس سے کم از کم ایم سی ڈی ملازمین کی ایک دو مہینے کی تنخواہیں دی جا سکیں گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے وہاں چٹکی لینے کی کوشش ہے جہاں سب سے زیادہ تکلیف ہو۔ جب تک عوام پریشان نہ ہوں اور آواز نہ اٹھائے، سرکاریں ایم سی ڈی اسٹاف کی پریشاں حالی کی جانب کیوں کر دھیان دیں گی۔ کوڑا کرکٹ نہ اٹھانے دینا اور وزراء کے گھروں کے سامنے کوڑا پھینکنے کا بھی یہی مقصد تھا۔ ایس کے بھاٹی دہلی اور مرکزی سرکاروں دونوں کو قصوروار ٹھراتے ہیں لیکن اروند کجریوال کو زیادہ مورد الزام مانتے ہیں جنہوں نے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔

ایم سی ڈی کے ملازمین تنخواہیں نہ ملنے سے پریشاں حال ضرور تھے لیکن عوام بھی ایم سی ڈی ملازمین کی ہڑتال سے کم پریشان نہیں رہا۔پہلے تو وہ کوڑا کرکٹ اور بدبو کے سبب پریشان تھے، بلکہ ایم سی ڈی ہاؤس ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے غضب کا بھی شکار ہو گئے۔

ایس کے بھاٹی نے بتایا کہ جن لوگوں نے ہاؤس ٹیکس نہیں جمع کروایا ہے یا کم جمع کروایا ہے ان کو نہ صرف ۲۰۰۵۔۲۰۰۴ سے اب تک کا بقایا جمع کرنا ہوگا بلکہ اس پر سود بھی جمع کرنا ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ جہاں پراپرٹی مالکان نے خود تخمینہ لگا کر آن لائن ٹیکس جمع کیا ہو بڑا امکان ہے کہ ان کی تشخیص صحیح نہ ہو، یا تو پراپرٹی مالکان کے ایم سی ڈی ایکٹ کی مختلف پوائنٹس کو نہ سمجھنے کے سبب یا پھر ٹیکس بچانے کی نیت سے۔ وجہ جو بھی ہو، تشخیص محکمہ کا عملہ شائد ہی اتنی مستیدی سے مختلف کالونیوں میں گھوما ہو جتنا ہڑتال کے دوران کیا۔ آراین آئی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ پراپرٹی مالکان جو آن لائن ہاؤس ٹیکس بھرتے آ رہے ہیں اورجن کا نام ایم سی ڈی کی ویب سائٹ پر بھی دکھائی دیتا ہے ان کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں اگر ان کے بھرے گئے ٹیکس کی تفصیلات ایم سی ڈی کے جائزہ اور کلکٹر محکمہ کے دستی رجسٹر میں نہیں چڑھی ہیں۔ ایس کے بھاٹی بتاتے ہیں کہ بھلے ہی پراپرٹی مالکان نے آن لائن ٹیکس جمع کیاہو، ٹیکس دہندہ کو چاہئے کہ ذاتی طور پر رسید لے کر ان کے دفتر میں آئے اور رجسٹر پر چڑھوائے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ہاؤس ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے چکّر لگانے ہی ہیں تو پھر آن لائن ٹیکس جمع کرنے کا کیا فائدہ؟

بھیجا گیا ایک نوٹس جس کی کاپی آراین آئی کے پاس موجود ہے اس میں لکھا ہے کہ اگرپراپرٹی مالک نے ٹیکس جمع نہیں کیا ہے تو تشخیص کراکر پچھلے ۱۲ سالوں کا ٹیکس بھرے اور اگر پراپرٹی مالک نے ٹیکس جمع کیا ہے تو اس کی کاپی لے کر سات دنوں کے درمیان ملے اور ایسا نہ کرنے پر یہ سمجھا جائیگا کہ اس کو کچھ نہیں کہنا ہے اور اس کے بعد دستیاب معلومات کی بنیاد پر جو بھی تشخیص کی جائے گی پراپرٹی مالک کے لئے اس پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں رہے گی اور پراپرٹی مالک کو ٹیکس کے علاوہ جرمانہ اور سود بھی جمع کرنا پڑ سکتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ جتنا بھی سرکاریں چاہیں کہ سرکاری ملازمین اور عوام میں کم سے کم ملاقاتیں ہوں، یہ ملازمین عوام سے ملاقات کے موقع ڈھونڈتے ہی رہتے ہیں۔ سبب کیا ہے ، وہی جانیں!

آر.این.آئی. ایسکلوسو

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.