سماجی تنظیم نے دہلی سرکار سے کیا سوال: نئے اسکول کھولنے کی پالیسی کو کرو واضح

ایک غیر سرکاری تنظیم نے جو ۱۹۸۷ سے معاشرے میں سماجی آگاہی اور اصلاحات کے کام میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرتی ہے حکومت دہلی سے کہا ہے کہ وہ دہلی میں نئے اسکول کھولنے کی پالیسی کو عوام کو بتائے۔دہلی میں کُکُرمُتّے کی طرز پر صرف ۷۰۔۸۰مربع گز یا اس سے بھی کم زمین پر مسلسل کھلتے جارہے اسکولوں کو دیکھتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔

حالانکہ گزشتہ کانگریس سرکار نے دہلی میں نئے پرائمری اسکول کھولنے کے لئے کم از کم ۸۰۰ مربع گز زمین ہونے کو لازمی قرار دیا تھا، موجودہ سرکار کے آنے پر دہلی میں نئے غیر مجازی اسکول تیزی سے کھل رہے ہیں ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف ایک اپارٹمنٹ میں، کسی مکان کے ایک چھوٹے سے حصہ میں اور یہاں تک کہ مکان کے گیراج میں بھی اسکول کھلنا جاری ہیں اور سرکار آنکھ بند کئے بیٹھی ہے۔ایک تخمینہ کے مطابق دہلی میں ہر سال چھوٹے چھوٹے مکانوں میں ۵۰ سے ۶۰ نئے اسکول کھل جاتے ہیں جو آنے والے وقت میں بڑی پریشانی کھڑی کر سکتے ہیں۔

غیر سرکاری سماجی تنظیم سوشل ورکرز ایسوسیایشن کے خط میں لکھا ہے کہ ’’حالیہ دنوں میں دہلی حکومت نے دہلی میں ۲۰۰۹ یا اس سے پہلے سے کھلے اسکولوں کو ۲۰۰ مربع گز کے پلاٹ پر چلتے رہنے کی اجازت دی تھی۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ۲۰۰ گز سے کم زمین پر چل رہے اسکولوں کو اجازت نہیں دی جائے گی، اس سمت میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں بہت سے اسکول اب تک چل رہے ہیں اور ہر سال نئے اسکولوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ کہ ایسے اسکولوں کے بند ہونے کی صورت میں ان اسکولوں میں پڑھ رہے طلبا کی منتقلی ایک مسئلہ ہوگی، کم از کم دہلی سرکار کو چھوٹے چھوٹے پلاٹ پر نئے کھل رہے اسکولوں پر پابندی لگانا چاہئے۔ اس زمن میں کوئی پالیسی فیصلہ نہ ہونے کے سبب نہ صرف ۷۰۔۸۰ گز کے پلاٹوں پر، بلکہ کسی بلڈنگ کی ایک منزل پر ، مکانوں کے گیراج میں،نئے اسکول کھلتے جا رہے ہیں۔

تنظیم نے یہ بھی مطالبلہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم ان درخواستوں پر فوری طور پر نظر ثانی کرے جو اسکول کم از کم ۲۰۰ مربع گز سے زیادہ زمین پر ۲۰۰۹ سے پہلے سے چل رہے ہیں اور جن فائلوں کو افسروں نے کسی نہ کسی بہانے سے روک رکھا ہے۔یہ اس لئے ضروری ہے کیوں کہ یہ اسکول کم آمدنی والے علاقوں میں بہت حد تک دہلی سرکار کا بوجھ کم کر رہے ہیں لیکن دہلی سرکار کو ان اسکولوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے بڑے اسکولوں پر نکیل کسنے کی ناکام کوشش میں لگی ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے پہلے اور بلا تاخیر نئے اسکول کھولنے کے قانون کو واضح کرے اور ہدایات جار ی کر ے تاکہ ۷۰۔۸۰ گز یا اس سے بھی کم کے پلاٹوں پر نئے اسکول کھلنے کا سلسلہ بند ہو اور ملک کے دارالحکومت میں تعلیم کے منظر نامے کی بے ترتیبی سے کچھ حد تک نجات مل سکے۔

 

آر.این.آئی. نیوز ایجنسی

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.