پرائیوٹ اسکول بند کرنے کے دہلی سرکار کے فرمان کے خلاف وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر کے سامنے مظاہرہ

آر.این.آئی، دہلی:

دہلی کے ۳۰۰۰ پرائیوٹ اسکول جن میں دس لاکھ سے زائد بچے پڑھتے ہیں کو بند کرنے کے دہلی سرکار کے حالیہ فرمان کے خلاف آج وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر دہلی کے کئی غیر رکگنائزڈ اسکولوں کے اساتذہ اور بچوں کے سرپرست موجود تھے۔یہ مظاہرہ دہلی اسٹیٹ پبلک اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں کیا گیا۔

اس موقع پر دہلی اسٹیٹ پبلک اسکول مینجمنٹ ایسو سی ایشن کے صدر رمیش جندر جین نے بتایا کہ جس رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کے تحت بچوں کو تعلیم کا حق دیا گیا اسی قانون کا سیکشن ۶۔اے کہتا ہے کہ تین سال کے اندر سرکار اتنے اسکول بنا دیگی کے ہر بچے کے پڑوس میں اسکول پہنچ جائیگا۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کو لاگو ہوئے ۸ سال بیت گئے ، دہلی میں اسکول نہیں بنے۔ اس قانون کا سیکشن ۱۸ کہتا ہے کہ جتنے غیر رکگنائزڈ اسکول ہیں وہ تین سال کے اندریا تو اپنے کو رکگنائزڈ کرا لیں گے انھیں ایک لاکھ روپئے جرمانہ اورروز۱۰۰۰۰ روپئے کی پینلٹی دینی ہوگی۔’’ہم کہتے ہیں کہ سرکار کو سیکشن ۶ پہلے یاد رکھنا چاہئے تھاتب سیکشن ۱۸ کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا،‘‘ جین نے کہا۔ انھوں مزید کہا کہ ’’سرکار کو یہ تو یاد نہیں کہ اسکو جتنے اسکول بنانے تھے وہ تو بنے نہیں، یہ دھیان آ گیا کہ غیر رکگنائزڈ اسکولوں کوبند کرنا ہے۔‘‘

جین نے کہا کہ دہلی سرکار کے اسکولوں میں پہلے سے ہی بچے بھرے پڑے ہیں جو ضروری سہولیات حاصل کر پانے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں کچھ نئے کمرے بنا کر اگر دہلی حکومت کا خیال ہے کہ اس نے تمام بچوں کے بیٹھنے کی سہولت مہیہ کر لی ہے تو یہ اسکی بھول ہے۔ دہلی سرکارکو پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے اپنے اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ ان اسکولوں کو بند کرنا چاہئے جو سرکاری اسکولوں سے بہتر تعلیم دے رہے ہیں تبھی تو والدین اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔

رمیش چندر جین نے بتایا کہ اگر دہلی سرکار اس فرمان کو فوری طور پر واپس نہیں لیتی اور ۳۱ مارچ ۲۰۱۸ تک چل رہے تمام اسکولوں کو منظوری دینے کی یقین دہانی نہیں کرتی تو صرف وزیر اعلیٰ کی رہائیش کا گھیراؤ ہی نہیں ، بلکہ دہلی اسٹیٹ پرائیویٹ اسکول مینیجمنٹ ایسوسی ایشن تمام ایم ایل اوں کا گھیراؤ کرائیگی اور اگر اس سے بھی بات نہیں بنی تو جو اسکول رکگنائزڈ ہیں انھیں بند کروایا جائیگا لیکن کسی بھی حال میں ایک بچے کو بھی پریشانی ہو یہ برداشت نہیں کیا جائیگا۔

یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ماضی قریب میں دہلی حکومت نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے مطابق اس سیشن کے بعد دہلی میں چلنے والے تمام غیر رکگنائزڈ اسکولوں کو بند کرنا ہوگا۔ اچانک آئے اس فرمان سے دہلی کے ۳۰۰۰ سے زائد اسکولوں میں پڑھ رہے ۱۰ لاکھ سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشا ہے جو سرکاری اسکولوں سے بہتر تعلیم ملنے کے سبب ان اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔

 

You may also like...

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *